ابنا: ماسکو سے موصولہ اطلاعات کے مطابق روسی وزارت خارجہ کے ترجمان الیگزینڈر لوکا شویچ نے آج ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کا ملک شام میں تشدد کے خاتمے کے لئے متحارب فریقوں کے درمیان بات چیت کے آغاز کی غرض سے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ شام کا موجودہ تعطل علاقے میں بحران پیدا ہونے اور ہمسایہ ممالک کی سیکورٹی کمزور ہونے کا سبب بنے گا۔قابل ذکر ہے کہ روس شام میں جھڑپوں کے آغاز سے ہی شام کے امور میں کسی بھی طرح کی غیرملکی مداخلت کی مخالفت کرتا رہا ہے۔واضح رہے کہ سنہ 2011 سے امریکہ، صیہونی حکومت، برطانیہ، فرانس، ترکی، سعودی عرب اور قطر کے حمایت یافتہ مختلف ملکوں کے دہشت گردوں نے شام کے بعض علاقوں میں بدامنی پھیلا رکھی ہے اور وہ اسرائیل کے خلاف استقامت کے اہم محور شام کی بشار اسد حکومت کی سرنگونی کی کوشش کررہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
8 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 407576
روس نے بات چیت کے ذریعہ شام میں جاری تشدد کے خاتمے کی ضرورت پر ایک بار پھر تاکید کی ہے۔